تورخم بارڈر پاک افغان


ایسا نہیں کہ جو مجھے پہلے پسند تھا اب پسندیدگی کے معیار پہ بدلنے کے بعد، پہلے والے کی قدر گھٹ گئی ہے۔۔ جیسے مجھے پہلے پسند تھا اب بھی ویسے ہی محبت اور دلبریزی کے ساتھ عشق کرتا ہوں۔


مکالمے میں ایک بحث چھڑ گئی کہ درمیان کی لکیر اہمیت رکھتی ہے، 

لیکن میرا کہنا اور ماننا ہے کہ "درمیانی لکیر کے نا ہونے سے بہت زیادہ ٹائٹ اور چھوٹے ہونے کی علامت ہے".

جتنے موٹے ہونگے اتنی ہی درمیانی لکیر سوئی کے برابر ہوگی۔

بحث لمبی ہوگئی، رات کے آخری پہر مثال نا ملنے پہ، بحث کو ختم کرنے کیلئے جوڑ توڑ کے میری بات پہ اکتفاء ہوگیا۔

یہ بڑا ہی کمال نقطہ ہے کہ ٹائٹ ہوں اور ساتھ میں چھوٹے بھی، کیوں کہ ہمشہ دیکھا اور تجربہ ہوا کہ جتنے بڑے ہونگے اتنے ہی لٹک گئے ہونگے اور پھر یہ بھی ظاہر ہوا کہ درمیانی لکیر موٹے ہونے کی وجہ سے بنتی ہے۔

اس لئے میرا ماننا تھا کہ بھلے ہی چھوٹے ہوں مگر ٹائٹ کڑک ہوں۔ 

زندگی میں صرف ایک شخصیت کے پاس ایسا کماااال حسن دیکھا، 

وہ رنگت میں بلیک سانولی تھی، مگر ان کا فگر شاید ہی کسی کے پاس اس طرح کی سٹرانگ اور خوبصورتی منوانی والی ہو۔۔۔

   ......********........******

میرا معیار تب بدل گیا جب سیکس کے سٹائل اور عورت کو مزا دینے سے واقف ہوا۔

پہلے تو سیکس کرکے تھوکتے ہوئے نہا کے الٹا منہ سو جاتے تھے، مگر اس بار ارادہ کرلیا تھا کہ ٹائمنگ پہ توجہ دینی اور پوزیشن بدل بدل کر سیکس کرنا ہے۔ فورپلے ایک عام سی بات ہوگئی جب میں نے اس رات سیکس کیا۔.

   ......********........******

گھوڑی بنانے کے بعد انٹر کرنے پر اگلے حصے سے ایک ہوا خارج ہوتی ہے، جو بدبودار نہیں ہوتی، 

انٹرکور کے بعد اندر کی خالی جگہیں پر ہوتی ہیں تو خالی جگہ پہ ہلکی سی ہوا جمع ہوتی ہے، اس ہوا کے مخالف میں انٹر کرنا اور پھر ایڈجیکٹ کرنے سے جو ہوا کے باہر آنے کی آواز پیدا ہوتی ہے، وہ نا ختم ہونے والے سرور اور ایک سکون والے سر تال کا نام لیتی ہے۔

   ......********........******

عورت کا حسن ہی ان کے گردن کے نیچے ہیں، اور اسی پہ ہر مرد مرتا ہے۔ پتا نہیں بدذوق مردوں کو یہ بات کب سمجھ آنی۔۔

مگر اس کے بدلے عورت کے کولہوں سے جو عشق ہوا، یہ شاید ابدی ہو، جیسے سوچتے ہوئے اور دیکھتے ہوئے میرے ہوش کسی اڑتی ہواؤں میں خوشبوؤں کے جیسی ہو جاتی ہے۔

میں اپنے سرور میں اپنے سامنے اور اردگرد جو ہورہا ہے اسے سوچے بنا، کھو جاتا ہوں۔

میری شاخیں کہاں سے کہاں پہنچ گئی، میرے پیمانے کتنے بہک گئے، یہ اندازہ بھی مشکل ہوتا ہے۔

میں ہیپس کا دیوانہ ہوگیا ہوں۔

میری تمنائیں چھپے اور کھلے جسم کے ہیپس میں عیاں ہوئی، میرے معیار کی ساری حدیں چھین کر لے گئی۔

اب میں مکمل ہوگیا ہوں یا پھر مجھے ہیپس کے علاؤہ بھی عورت کے گھٹنوں سے اوپر اور زیر ناف کے نیچے کے "تورخم بارڈر" کو لکھنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔

سالار خان

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس