اشاعتیں

اکتوبر, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
تصویر
 *سیرت النبیﷺ ۔ قسط:249* *اموالِ غنیمت کی تقسیم:* طائف سے واپس ہوتے ہوئے حضور اکرم ﷺ مقام جعرانہ میں رکے جہاں حنین کی لڑائی کا مالِ غنیمت محفوظ کردیا گیا تھا، وہاں آپﷺ کئی روز تک مالِ غنیمت تقسیم کئے بغیر ٹھہرے رہے جس کا مقصد یہ تھا کہ ہوازن کا وفد تائب ہوکر آپﷺ کی خدمت میں آئے تو ان کا مال اور قیدی واپس کئے جائیں،  لیکن تاخیر کے باوجود آپ ﷺ کے پاس کوئی نہ آیا تو آپﷺ نے مالِ غنیمت کی تقسیم شروع کردی جس میں چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں، چار ہزار اوقیہ چاندی اور چھ ہزار قیدی تھے، حضور اکرمﷺ نے اسلامی قانون کے مطابق کُل مال کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا، چار حصے لڑنے والوں میں بانٹ دئیے اور ایک حصہ بیت المال کے لئے روک لیا، اس پانچویں حصہ میں سے آپﷺ نے مکّہ اور دوسرے مقامات کے نو مسلموں کو دل کھول کر حصے دئیے۔ ابو سفیان بن حرب کو چالیس اوقیہ چاندی اور ایک سو اونٹ عطاکئے، انہوں نے کہا: میرا بیٹا یزید؟ آپﷺ نے اتنا ہی یزید کو بھی دیا، انہوں نے کہا: اور میرا بیٹا معاویہ؟ آپﷺ نے اتنا ہی معاویہ کو بھی دیا، (یعنی تنہا ابوسفیان اور ان کے بیٹوں کو تین سو اونٹ اور ایک سو بیس اوقیہ چاندی...
تصویر
*سیرت النبیﷺ ۔ قسط: 250* *اموالِ غنیمت کی تقسیم:* طائف سے واپس ہوتے ہوئے حضور اکرم ﷺ مقام جعرانہ میں رکے جہاں حنین کی لڑائی کا مالِ غنیمت محفوظ کردیا گیا تھا، وہاں آپﷺ کئی روز تک مالِ غنیمت تقسیم کئے بغیر ٹھہرے رہے جس کا مقصد یہ تھا کہ ہوازن کا وفد تائب ہوکر آپﷺ کی خدمت میں آئے تو ان کا مال اور قیدی واپس کئے جائیں،  لیکن تاخیر کے باوجود آپ ﷺ کے پاس کوئی نہ آیا تو آپﷺ نے مالِ غنیمت کی تقسیم شروع کردی جس میں چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں، چار ہزار اوقیہ چاندی اور چھ ہزار قیدی تھے، حضور اکرمﷺ نے اسلامی قانون کے مطابق کُل مال کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا، چار حصے لڑنے والوں میں بانٹ دئیے اور ایک حصہ بیت المال کے لئے روک لیا، اس پانچویں حصہ میں سے آپﷺ نے مکّہ اور دوسرے مقامات کے نو مسلموں کو دل کھول کر حصے دئیے۔ ابو سفیان بن حرب کو چالیس اوقیہ چاندی اور ایک سو اونٹ عطاکئے، انہوں نے کہا: میرا بیٹا یزید؟ آپﷺ نے اتنا ہی یزید کو بھی دیا، انہوں نے کہا: اور میرا بیٹا معاویہ؟ آپﷺ نے اتنا ہی معاویہ کو بھی دیا، (یعنی تنہا ابوسفیان اور ان کے بیٹوں کو تین سو اونٹ اور ایک سو بیس اوقیہ چاندی ملی)...
تصویر
  *سیرت النبی ﷺ ۔۔۔ قسط: 246* *اسلامی لشکر پر تیر اندازوں کا اچانک حملہ:* اسلامی لشکر منگل اور بدھ کی درمیانی رات ۱۰/شوال کو حنین پہنچا، لیکن مالک بن عوف یہاں پہلے ہی پہنچ کر اور اپنا لشکر رات کی تاریکی میں اس وادی کے اندر اتار کر اسے راستوں، گزرگاہوں، گھاٹیوں، پوشیدہ جگہوں اور درّوں میں پھیلا اور چھپا چکا تھا اور اسے یہ حکم دے چکا تھا مسلمان جونہی نمودار ہوں انہیں تیروں سے چھلنی کردینا، پھر ان پر ایک آدمی کی طرح ٹوٹ پڑنا۔ ادھر سحر کے وقت رسول اللہ ﷺ نے لشکر کی ترتیب وتنظیم فرمائی اور پرچم باندھ باندھ کر لوگوں میں تقسیم کیے پھر صبح کے جھٹپٹے میں مسلمانوں نے آگے بڑھ کر وادی حنین میں قدم رکھا، وہ دشمن کے وجود سے قطعی بے خبر تھے، انہیں مطلق علم نہ تھا کہ اس وادی کے تنگ دروں کے اندر ثقیف وہوازن کے جیالے ان کی گھات میں بیٹھے ہیں، اس لیے وہ بے خبری کے عالم میں پورے اطمینان کے ساتھ اُتر رہے تھے کہ اچانک ان پر تیروں کی بارش شروع ہوگئی، پھر فوراً ہی ان پر دشمن کے پَرے کے پَرے فردِ واحد کی طرح ٹوٹ پڑے (اس اچانک حملے سے مسلمان سنبھل نہ سکے اور ان میں ایسی بھگدڑ مچی کہ کوئی کسی کی طرف تاک نہ ر...
تصویر
 خوشی کے لمحات میں ہر کوئی ساتھ دیتا ہے اور ساتھ رہتا ہے، لیکن دکھ درد مصیبتیں اور پریشانیوں میں بمشکل کو ساتھ رہے تو ایک حد تک۔ ۔ ۔ ہمشہ معمول رہا کہ کوئی پریشانی ہو یا دکھ ہر لمحے میں بیگم کو ساتھ شامل کرکے دکھ درد بانٹ لیتا ہوں، لیکن کبھی والدہ کو ، اپنی پریشانیاں اور درد کے بارے میں نہیں بتایا۔ شاز و نادر ایسا ہو کہ بتانا پڑ جاۓ، لیکن اس بتانے میں ہزار جھوٹ ہوتے ہیں کہ کہیں والدہ کو میری وجہ سے پریشانی نا ہوں۔ دوستوں کو اپنے دکھڑے سنانے سے تو فائدہ ہی کوئی نہیں۔ "بیوی کو اپنے غم کی داستان بتا کر  ہم دکھ درد بانٹ لیتے ہیں، مگر والدہ کو اگر میری پریشانی کا پتا چل جاۓ تو والدہ محترمہ دکھ درد بانٹتی نہیں، بلکہ میرے سارے دکھ درد کو اپنے اندر سمیٹ کر خود کو پریشان کر دیتی ہے" ماں وہ واحد ہستی ہیں جو آپ کے ہر زخم کو اور پریشان کو جاۓ،نماز پہ سجا کر رو رو کر الله تعالیٰ سے آپ کی خیریت طلب کرتی ہے۔"" ماں کی تعریف و توصیف میں ہر بچہ ہزاروں فقرے لکھ لے گا، مگر ماں کی قدر و قیمت پھر بھی کوئی ادا نہیں کرسکتا۔ الله تعالی ہمارے والدین کو سلامت رکھے۔ آمین۔
تصویر
 

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم قسط نمبر 245

تصویر
 *سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 245* *رسول اللہ ﷺ کی مکہ سے روانگی:* دشمن کی نقل و حرکت سے واقفیت کے لئے حضور اکرم ﷺ نے حضرت ابو حدردؓ اسلمی کو روانہ کیا تھا، تاکہ ان کے حالات سے واقفیت حاصل کرکے اطلاع دیں، چنانچہ وہ وہاں جاکر واپس آئے اور دشمن کے منصوبوں کی اطلاع دی، حضور اکرم ﷺ نے مجبوراً مقابلہ کی تیاریاں شروع کر دیں، رسد اور سامانِ جنگ کی ضرورت پیش آئی تو آپ ﷺ نے عبداﷲ بن ربیعہ سے جو ابو جہل کے بے مات بھائی تھے اور نہایت دولت مند تھے تیس ہزار درہم قرض لئے۔ (مسند ابن حنبل بحوالہ سیرت النبی) رسول اﷲ ﷺ کو جب ہوازن و ثقیف کی پیش قدمی کی خبریں ملیں تو آپ ﷺ ۶شوال ۸ ہجری ہفتہ کو مکّہ سے حنین کی طرف روانہ ہوئے، آپ ﷺ کے ہمراہ بارہ ہزارکی فوج تھی جس میں دس ہزار اہلِ مدینہ تھے اور دو ہزار اہل مکّہ، جن میں اکثریت نو مسلموں کی تھی، صفوان بن اُمیہ جو مکّہ کا رئیس اعظم اور مہمان نوازی میں مشہورتھا، لیکن اب تک اسلام نہیں لایا تھا، اس سے حضور اکرم ﷺ نے اسلحہ جنگ مستعار مانگے، اس نے سو زرہیں اور ان کے لوازمات پیش کئے( شبلی نعمانی) اس کے بعد اس سرو سامان سے حنین کی طرف فوجیں بڑھیں کہ بعض صحابہ کی زبان سے ...