*سیرت النبیﷺ ۔ قسط:249* *اموالِ غنیمت کی تقسیم:* طائف سے واپس ہوتے ہوئے حضور اکرم ﷺ مقام جعرانہ میں رکے جہاں حنین کی لڑائی کا مالِ غنیمت محفوظ کردیا گیا تھا، وہاں آپﷺ کئی روز تک مالِ غنیمت تقسیم کئے بغیر ٹھہرے رہے جس کا مقصد یہ تھا کہ ہوازن کا وفد تائب ہوکر آپﷺ کی خدمت میں آئے تو ان کا مال اور قیدی واپس کئے جائیں، لیکن تاخیر کے باوجود آپ ﷺ کے پاس کوئی نہ آیا تو آپﷺ نے مالِ غنیمت کی تقسیم شروع کردی جس میں چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں، چار ہزار اوقیہ چاندی اور چھ ہزار قیدی تھے، حضور اکرمﷺ نے اسلامی قانون کے مطابق کُل مال کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا، چار حصے لڑنے والوں میں بانٹ دئیے اور ایک حصہ بیت المال کے لئے روک لیا، اس پانچویں حصہ میں سے آپﷺ نے مکّہ اور دوسرے مقامات کے نو مسلموں کو دل کھول کر حصے دئیے۔ ابو سفیان بن حرب کو چالیس اوقیہ چاندی اور ایک سو اونٹ عطاکئے، انہوں نے کہا: میرا بیٹا یزید؟ آپﷺ نے اتنا ہی یزید کو بھی دیا، انہوں نے کہا: اور میرا بیٹا معاویہ؟ آپﷺ نے اتنا ہی معاویہ کو بھی دیا، (یعنی تنہا ابوسفیان اور ان کے بیٹوں کو تین سو اونٹ اور ایک سو بیس اوقیہ چاندی...